گلگت بلتستان میں المناک حادثہ، سیاحوں سے بھری گاڑی گہری کھائی میں گر گئی
گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے علاقے چلاس میں فیری میڈوز جانے والے سیاحوں کو لے جانے والی ایک جیپ گہری کھائی میں گرنے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد جاں بحق ہوگئے۔
گلگت بلتستان پولیس کے مطابق حادثہ یکم جون کو مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تقریباً 3 بجے پیش آیا، جب فیری میڈوز جانے والی ایک جیپ ٹٹو رائیکوٹ روڈ پر حادثے کا شکار ہو گئی۔ گاڑی بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری اور تیز بہاؤ میں بہہ گئی۔
حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیموں نے ڈرائیور اور مسافروں کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ بعد ازاں حکام نے تصدیق کی کہ گاڑی میں سوار کم از کم سات افراد حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔
چلاس کے قریب ٹٹو رائیکوٹ روڈ پر حادثہ، ڈرائیور سمیت 7 افراد زندگی کی بازی ہار گئے
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے ڈرائیور کی شناخت ضیاء اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع دیامر کے علاقے داریل کے رہائشی تھے۔ دو سیاحوں کی شناخت علی اور سجاد کے نام سے ہوئی ہے، جن کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا، جبکہ دیگر چار مسافروں کے پنجاب سے تعلق رکھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
حکام کی جانب سے دیگر جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں حادثے کی جگہ سے لاشوں کی بازیابی کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
فیری میڈوز، جسے مقامی زبان میں "جوٹ” کہا جاتا ہے، ہمالیہ کے دامن میں واقع ایک دلکش سیاحتی مقام ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے صرف ایک دشوار گزار سڑک موجود ہے، جسے دنیا کی خطرناک ترین سڑکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سیاح ٹٹو گاؤں تک گاڑی کے ذریعے پہنچنے کے بعد فیری میڈوز تک رسائی کے لیے تین سے چار گھنٹے کی پیدل مسافت طے کرتے ہیں۔
