اسلام آباد : پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ(پی ٹی ایم ایل) کے برانڈ، ٹیلی نار پاکستان کو پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے زیر اہتمام منعقدہ ٹیلی کام سائبر سیکیورٹی ایوارڈز 2026 میں مسلسل تیسرے سال پی ٹی اے کی سائبر سیکیورٹی درجہ بندی میں نمبر 1 قرار دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز کمپنی کی جانب سے ضابطہ جاتی تقاضوں پر عمل درآمد اور ٹیلی کام کے شعبے میں قیمتی ڈیٹا اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششوں کا اعتراف ہے۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام، شزہ فاطمہ خواجہ نے پی ٹی ایم ایل کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر ،اویس وہرہ اور چیف کارپوریٹ افیئرز آفیسر، شان حق کو تقریب کے دوران ایوارڈ پیش کیا۔ تقریب میں اعلیٰ حکومتی عہدیداران، چیئرمین پی ٹی اے اور ٹیلی کمیونی کیشن و ٹیکنالوجی کے شعبے سے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔
یہ ایوارڈ پی ٹی اے نے ایک جامع آڈٹ اور دوبارہ توثیق کے عمل کے بعد دیا ، جس کے دوران اہم ٹیلی کام ڈیٹا اور انفراسٹرکچر سیکیورٹی ریگولیشنز (CTDISR) کے تحت ٹیلی نار پاکستان نے ٹیلی کام کے شعبے میں ضابطوں کی تعمیل میں سبقت حاصل کی۔ یہ اسکور کمپنی کے سائبر سیکیورٹی گورننس کے نظام میں تسلسل اور اپنے تمام آپریشنز میں مضبوط سیکیورٹی معیار برقرار رکھنے کے حوالے سےکمپنی کی کوششوں کا عکاس ہے۔
ٹیلی کمیونی کیشن نیٹ ورکس جیسے جیسے ایک تیزی سے باہم مربوط ہوتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد بن رہے ہیں، اہم بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانا اور ڈیٹا کا تحفظ ڈیجیٹل خدمات کی قابلِ اعتماد فراہمی اور ان کی پائیداری برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہو گیا ہے۔ یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کی جانب سے اس شعبے میں مسلسل کوششیں ٹیلی کام کے شعبے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہیں۔
اس کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے پی ٹی ایم ایل کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر، اویس وہرہ نے کہا، ’’ہمارے جیسے انتہائی مربوط معاشرے میں سائبر سیکیورٹی اعتماد کے حصول کی بنیادی شرط ہے۔ مسلسل تین سال تک پہلی پوزیشن برقرار رکھنے پر ہمیں بے حد خوشی ہے۔ یہ اعزاز ہمارے مضبوط سیکیورٹی معیار، ضابطہ جاتی تقاضوں پر عمل درآمد اور ٹیلی کام کے اہم ڈیٹا اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ہماری کوششوں کا اعتراف ہے۔ ہم ملک میں زیادہ محفوظ اور مستحکم ڈیجیٹل ماحول کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘‘
یہ ایوارڈ پاکستان کے ٹیلی کمیونی کیشن شعبے میں اعتماد کو مضبوط بنانے کے حوالے سے سائبر سیکیورٹی کی وسیع تر اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل رابطہ کاری ملک بھر میں کاروباری اداروں، تنظیموں اور صارفین کی روزمرہ زندگی میں تیزی سے مرکزی حیثیت اختیار کر رہی ہے۔
