کراچی: پاکستان کی کیش لیس معیشت تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے میزان بینک نے اپنے مرچنٹ نیٹ ورک میں نمایاں اضافہ، انسٹنٹ پیمنٹ سلوشنز کے استعمال کو تیز کرنے اور ڈیجیٹل پیمنٹ انفرااسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی ٹرانزیکشنز میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں تقریباً 92 فیصد ریٹیل ٹرانزیکشنز اب ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں، جو نقد پرمبنی ادائیگیوں پر انحصار میں نمایاں کمی کی عکاسی ہے۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں میزان بینک مرچنٹ ایکوائرنگ اور ڈیجیٹل پیمنٹ سہولتوں کی فراہمی میں ایک کلیدی ادارے کے طور پر سامنے آیا ہے۔انڈسٹری تخمینوں کے مطابق بینک کا مرچنٹ بیس 50 ہزار سے تجاوز کر چکا ہے جس میں ماہانہ ٹرانزیکشنزکا اوسط حجم تقریباً50ارب روپے تک پہنچ گیاہے۔
اس پیش رفت پر بات کرتے ہوئے میزان بینک کے گروپ ہیڈ کنزیومر فنانس اینڈ ڈیجیٹل بینکنگ احمد علی صدیقی نے کہاکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف منتقلی صرف ایک تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ ایک معاشی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل تبدیلی شفافیت، دستاویزی معیشت کے فروغ اور جامع اقتصادی ترقی کو سپورٹ فراہم کرنے کا اہم موقع ہے۔ انہوں نے کہاکہ تاجروں کو باآسانی ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے کے قابل بنا کر ہم کاروباری اداروں کو غیر رسمی نقدی پر مبنی آپریشنز سے باضابطہ معیشت کا حصہ بنانے میں مددفراہم کررہے ہیں۔
اس وقت بھی پاکستان کی معیشت نقدی پر انحصار کے باعث متعدد اسٹرکچرل چیلنجز سے دوچار ہے، جن میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح تقریباً 9 سے 10 فیصد اور ایس ایم ایز کی محدود رسمی فنانسنگ تک رسائی شامل ہے۔ اگرچہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی جی ڈی پی میں تقریباً 40 فیصد حصہ ڈالتے ہیں، مگر انہیں بینک قرضوں کا 10 فیصد سے بھی کم حصہ ملتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیاں اس خلا کو پُر کرنے، مالیاتی ریکارڈ بہتر بنانے، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرنے اور ٹرانزیکشن لاگت کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انڈسٹری ذرائع کے مطابق صرف کیش ہینڈلنگ پر جی ڈی پی کا تقریباً 0.5فیصد سے 1.5فیصد تک خرچ آتاہے جبکہ ای کامرس میں اب بھی زیادہ تر ادائیگیاں کیش آن ڈیلیوری کے ذریعے کی جاتی ہیں۔
میزان بینک نے اپنی ڈیجیٹل ایکوائرنگ انفرااسٹرکچر میں پوائنٹ آف سیل (POS) ٹرمینلز، QR بیسڈ ادائیگیوں اور ای کامرس پیمنٹ سلوشنز کے ذریعے نمایاں توسیع کی ہے۔ بینک راست (Raast) کے ساتھ انضمام کے ذریعے مرچنٹس اور صارفین کے لیے تیز، کم لاگت اور محفوظ لین دین کی سہولت بھی فراہم کر رہا ہے۔ اپنی ترقیاتی حکمتِ عملی کے تحت بینک کا140,000 سے زائد نئے مرچنٹس کو آن بورڈ کرنے اور 40,000 سے زائد POS ٹرمینلز پر راست سسٹم بڑھانے کا ہدف ہے۔ اس کے علاوہ بینک نے انسٹنٹ QR کوڈ جنریشن اور ساؤنڈ باکس ڈیوائسز جیسی سہولتیں بھی متعارف کرائی ہیں، جو مرچنٹس کو ریئل ٹائم ٹرانزیکشن الرٹس فراہم کر کے ڈیجیٹل ادائیگیوں پر اعتماد بڑھاتی ہیں۔
مارکیٹ کے اعدادو شمار کے مطابق راست پر مبنی مرچنٹ ادائیگیوں میں اضافہ دیکھا جارہاہے اورٹرانزیکشن حجم میں اوسطاً 40 فیصد ماہانہ اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ احمد علی صدیقی نے کہا کہ اس ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے انفرااسٹرکچر اور جدت میں مسلسل سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق میزان بینک کی توجہ ایک ایسا مضبوط، محفوظ، قابلِ رسائی اور شریعہ اصولوں سے ہم آہنگ ڈیجیٹل ایکو سسٹم تشکیل دینے پر ہے، جو نہ صرف بینک کی مارکیٹ پوزیشن کو مستحکم کرے بلکہ پاکستان کے دستاویزی اور کیش لیس معیشت کے وسیع تر قومی ہدف کے حصول میں بھی مؤثر کردار ادا کرے۔
ماہرین کے مطابق جیسے جیسے بینک ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولتوں کو توسیع دے رہے ہیں اور مزید مرچنٹس اس سسٹم میں شامل ہورہے ہیں، پاکستان میں مالی شمولیت اور معیشت کی دستاویزی شکل اختیار کرنے کے عمل میں تیزی آسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے ٹرانزیکشنزحجم میں مسلسل اضافہ اور ادارہ جاتی تعاون مضبوط ہونے کے باعث پاکستان کا ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام آئندہ برسوں میں مزید وسعت اور استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔
