کراچی: او ورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI)نے انٹلکچوئل پراپرٹی رائٹس (IPR) سروے کی رپورٹ جاری کردی ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل آئی پی او پاکستان نعمان اسلم بھی موجودتھے۔ 8سیکٹرزپر مشتمل سروے کے مطابق دانشورانہ املاک کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث پاکستان کو سالانہ 860ارب روپے کی آمدنی اور ٹیکسزکا نقصان ہورہا ہے۔
سروے میں شریک ا وآئی سی سی آئی کے ہر 10میں سے 6ممبران کے مطابق پاکستان کے موجودہ قوانین کے تحت دانشورانہ املاک کے حقوق کو جزوی تحفظ حاصل ہےاور اس نظام میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ سروے کے مطابق ٹریڈ مارک کی خلاف ورزیاں سب سے زیادہ عام نوعیت کی خلاف ورزیاں قرار دی گئیں ہیں۔
سروے میں نفاذ کے نظام کے حوالے سے بھی صورتحال تشویشناک قراردی گئی ہے جہاں بیشتر دانشورانہ املاک سے متعلق تنازعات کے حل میں تین سال سے زائد عرصہ لگ جاتا ہے، جبکہ ابتدائی مراحل میں مقدمات کے منطقی انجام تک پہنچنے کی شرح انہتائی کم ہے۔
سروے شرکاء نے کسٹمز، پولیس اور ایف آئی اے سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کو محدود قرار دیا۔ سروے میں پاکستان میں ٹرپس(TRIPS) اورورلڈ انٹلکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (WIPO) کے معیارکے مطابق قانونی اصلاحات ،اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری، سرحدی مقامات پر IP واچ لسٹس کے قیام اور حساس شعبوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کی سفارش کی گئی ہے۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل آئی پی او پاکستان نعمان اسلم نے کہا کہ دانشورانہ املاک کے حقوق کا مؤثر تحفظ معاشی ضرورت بن چکا ہے۔سروے کے نتائج مضبوط اداروں، بین الادارہ جاتی تعاون اورآئی پی آر انفورسمنٹ نظام میں بہتر خدمات کی فراہمی کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ آئی پی او پاکستان انفورسمنٹ کے خلا پُر کرنے اور پاکستان کو جدّت ا ور اختراع کے فروغ کیلئے سازگار ملک کے طورپر مستحکم کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔
اس موقع پر او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل ایم عبد العلیم نے کہا کہ سروے کے نتائج اس بات کی اہم یاد دہانی ہیں کہ پاکستان میں دانشورانہ املاک کے حقوق کے تحفظ کیلئے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار ایسے ماحول میں کاروبار کرنا چاہتے ہیں جہاں ان کے برانڈز، مصنوعات اور اختراعات کو تحفظ حاصل ہو اور تنازعات کا حل مناسب وقت میں ممکن ہو۔ سالانہ 860ارب روپے کی آمدنی اور ٹیکسزکا نقصان ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان نتائج کو مثبت انداز میں دیکھتے ہوئے نجی شعبے کے ساتھ مل کر بہتری کیلئے عملی اقدامات کریں گے۔
او آئی سی سی آئی نے امید ظاہر کی کہ سروے کے نتائج پالیسی سازی اور اصلاحات کیلئے ایک مؤثر اور قابلِ عمل رہنمائی فراہم کریں گے اور پاکستان میں زیادہ محفوظ، شفاف اور جدّت دوست کاروباری ماحول کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گے۔
