پاکستان میں پہلی بار وفاقی ادارے نے برقی گاڑیوں کا عملی استعمال شروع کیا
اسلام آباد، 6 اپریل 2026 — دنیا کی معروف نیو انرجی وہیکل (NEV) کمپنی BYD نے اپنے پاکستانی پارٹنر میگا موٹر کمپنی کے ذریعے اسلام آباد پولیس کو BYD Atto 2 اور BYD Sealion 7 الیکٹرک گاڑیاں فراہم کی ہیں۔ یہ پاکستان کے کسی وفاقی ادارے کی جانب سے پہلی بار برقی گاڑیوں کے بیڑے کو عملی طور پر اپنانے کا اقدام ہے۔ اس موقع پر ایک باضابطہ تقریب منعقد ہوئی جس کا افتتاح وزیرِاعظم شہباز شریف نے کیا۔ تقریب میں آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی، چیف ٹریفک آفیسر محمد سرفراز ورک اور دیگر اعلیٰ افسران بھی شریک تھے۔
یہ گاڑیاں پولیس کے مختلف آپریشنل کرداروں کے لیے مختص کی گئی ہیں، جن میں ٹریفک پیٹرولنگ اور سرکاری نقل و حرکت شامل ہے۔ اس اقدام سے پولیس کو ایندھن پر انحصار کم کرنے، اخراجات گھٹانے اور ماحول دوست آپریشنز متعارف کرانے میں مدد ملے گی۔
پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے تناظر میں یہ قدم ادارہ جاتی سطح پر زیادہ مستحکم اور کم لاگت نقل و حرکت کے حل کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ اسلام آباد پولیس کا یہ فیصلہ نہ صرف ایندھن کی قیمتوں کے اثرات سے بچاؤ کا ذریعہ ہے بلکہ طویل المدتی آپریشنل کارکردگی کو بھی بہتر بنائے گا۔
ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس کا برقی انقلاب
اسلام آباد پولیس کے ایک ترجمان نے کہا:
“ہم جدید اور پائیدار حل اپنانے کے لیے پرعزم ہیں جو عوامی خدمت کے ساتھ ساتھ آپریشنل کارکردگی کو بھی بہتر بنائیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کا انضمام ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحول دوست پولیسنگ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ یہ وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ کے سبز اور پائیدار مستقبل کے وژن کا عملی مظہر ہے۔”
میگا موٹر کمپنی کے نائب صدر سیلز و اسٹریٹجی دانش خالق نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کا یہ اقدام ادارہ جاتی سطح پر برقی نقل و حرکت کے حقیقی استعمال کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
BYD کی گاڑیاں جدید بلیڈ بیٹری ٹیکنالوجی، اعلیٰ حفاظتی نظام، کم دیکھ بھال کے تقاضے اور صفر اخراج کے ساتھ پولیس کو جدید سہولت فراہم کریں گی۔ خاموش پیٹرولنگ جیسے فوائد شہری ماحول میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے خاص طور پر موزوں ہیں۔
یہ اقدام نہ صرف ماحولیاتی فوائد فراہم کرتا ہے بلکہ مالی لحاظ سے بھی زیادہ مؤثر ہے، کیونکہ برقی گاڑیوں کی لاگت روایتی ایندھن والی گاڑیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
