پاکستانی نوجوان کا عالمی اعزاز: ای آئی اسٹارٹ اپ ‘کرسر’ خریدنے کے لیے اسپیس ایکس میدان میں
پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز سامنے آیا ہے جہاں کراچی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ نوجوان صالح آصف کے اے آئی (AI) اسٹارٹ اپ ’کرسر‘ اور ایلون مسک کی عالمی شہرت یافتہ کمپنی اسپیس ایکس کے درمیان 60 ارب ڈالر کا ایک عظیم الشان معاہدہ طے پایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق صالح آصف کی کمپنی ‘کرسر’ نے کمپیوٹر کوڈنگ کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے خودکار (Automate) بنا کر دنیا بھر کے ڈویلپرز کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس وقت دنیا کی 50 ہزار سے زائد آئی ٹی کمپنیاں، جن میں ایڈوب، نیویڈیا، اور شاپی فائے جیسے بڑے ادارے شامل ہیں، کوڈنگ کے لیے اسی کمپنی کے ٹولز سے مستفید ہو رہی ہیں۔
صالح آصف فوربز کی ارب پتیوں کی فہرست میں شامل، کمپنی ‘کرسر’ کی مارکیٹ ویلیو 29 ارب ڈالر سے متجاوز
معاہدے کی تفصیلات کے مطابق اسپیس ایکس نے ‘کرسر’ کو خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر اسپیس ایکس رواں سال کے آخر تک معاہدے کی مکمل رقم ادا نہیں کر پاتی، تو وہ 10 ارب ڈالر کی ادائیگی کے ساتھ صالح آصف کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے تحت مل کر کام کرے گی۔ اس تاریخی کامیابی کے بعد صالح آصف کا نام فوربز میگزین کی ارب پتی افراد کی فہرست میں بھی شامل ہو گیا ہے، جبکہ ان کی کمپنی کی مارکیٹ ویلیو 29 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
صالح آصف کا تعلیمی سفر کراچی کے نکسر کالج سے شروع ہوا، جس کے بعد انہوں نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہاں انہوں نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر ‘Anysphere’ نامی کمپنی کی بنیاد رکھی، جس نے ‘کرسر’ جیسا انقلابی اے آئی کوڈ ایڈیٹنگ ٹول متعارف کرایا۔ یہ کامیابی نہ صرف صالح آصف کی ذاتی محنت کا ثمر ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص میں بھی ایک بڑا اضافہ ہے۔
