مگر یہ رزق کا معاملہ عجیب ہے ۔ میں اپنی زندگی میں بے شمار جگہوں پر گیا ہوں، میں نے اکثر لوگوں کو اس دنیا کے اندر زیادہ کھاتے ہی دیکھا۔ تو جب اللہ تعالیٰ کی اتنی نعمتیں ہیں تو ان کا شکر ادا کرنا چاہیے، ایک مچھلی دیکھی اس کا نام تھا بلو ویل، اتنی بڑی مچھلی کہ اس کا وزن روزانہ ایک سو پاؤنڈ بڑھتا ہے، یعنی پچاس کیلوروزانہ بڑھتا ہے،
آج کل کے نو جوانوں کے وزن ہی پچاس ساٹھ کیلو یا ستر کیلو ہیں ، تو جس مچھلی کا وزن پچاس کیلوروزانہ بڑھتا ہے تو وہ کھائی کتنا ہوگی ؟ اچھا مزے کی بات یہ کہ وہ ایسی چیز کھاتی ہے جسکو ہم دیکھ ہی نہیں سکتے ، وہ سمندر کا پانی اپنے اندر لیتی ہے اور اس کے جسم میں اللہ تعالیٰ نے ایک بہت باریک کی سکرین بنائی ہوئی ہے۔ اس میں سے پانی گزرتا ہے تو پانی میں سمندر کے اندر جو چھوٹے چھوٹے بکٹیریا ہوتے ہیں، آنکھ سے نظر ہی نہیں آتے ، وہ چھلنی کی طرح سکرین کے ایک طرف رہ جاتے ہیں اور صاف پانی آگے نکل جاتا ہے یہی بکٹیریا اس کی غذا بنتے ہیں۔ کوئی اندازہ لگا سکتا کہ وہ کھاتی کچھ نہیں، بس ہر وقت پانی اس کے منھ میں آرہا ہے جا رہا ہے۔
اور کچھ فلٹر ہو کے جو جھاگ سی بنتی ہے وہ اس کی غذا بن رہی ہے۔ واہ میرے مولا تیری نرالی شان ہے! اور ہر وقت وہ چلتی رہتی ہے، اپنی زندگی میں وہ اتنا چلتی ہے کہ تین مرتبہ وہ چاند کا چکر لگا کر واپس آسکتی ہے اتنا سفر طے کرتی ہے۔ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَرَبِّكَ الَّاهُو. اللہ تعالیٰ کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ دیکھو اس کی غذا اللہ نے یہ بنادی، تو غذا تو بندے کو اللہ تعالیٰ پہونچاتے ہیں۔