اسلام آباد، ایرکسن نے EU۔ پاکستان بزنس فورم 2026 میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو تیز کرنے میں جدید کنیکٹیویٹی، مصنوعی ذہانت (AI) اور 5Gکے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔
اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ فورم میں سینئر حکومتی عہدیداروں، ٹیکنالوجی کے عالمی رہنماؤں، سرمایہ کاروں اورانڈسٹری سے وابستہ اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان سرمایہ کاری، جدت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اعلیٰ سطحی راؤنڈ ٹیبل مباحثوں اور کلیدی سیشنز میں شرکت کرتے ہوئے ایرکسن نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اگلی نسل کے نیٹ ورکس اور AI پر مبنی انفراسٹرکچر لاجسٹکس، توانائی، موبیلیٹی اور مالیاتی خدمات سمیت کلیدی شعبوں کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں جوپاکستان کی طویل المدتی معاشی ترقی کے لیے اہم ہیں۔
پینل بات چیت کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ کنیکٹیویٹی اب محض ایک سہولت نہیں رہی بلکہ ایک بنیادی معاشی محرک بن چکی ہے، جو براہِ راست مسابقت، نجی شعبے کی توسیع اور ڈیجیٹل شمولیت کو متاثر کرتی ہے۔
ایرکسن پاکستان کے کنٹری پریزیڈنٹ عامر احسن نے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے ڈیجیٹل تبدیلی کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کے لیے مضبوط پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کی اہمیت پرزوردیا۔ انہوں نے کہا کہ 5Gاور AI کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے سازگار پالیسیز، اسپیکٹرم کی دستیابی اور سرمایہ کاری دوست فریم ورک ناگزیر ہیں۔
فورم میں قائم اپنے نمائشی اسٹال پر ایرکسن نے اپنی جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ دکھایاکہ کس طرح اعلیٰ کارکردگی کے حامل نیٹ ورکس نئے کاروباری ماڈلز کو فروغ دے رہے ہیں، آپریشنل کارکردگی بہتر بنا رہے ہیں اور مختلف صنعتوں میں نئی ایپلیکیشنز کے بڑھتے ہوئے استعمال کوسپورٹ فراہم کررہے ہیں۔
کمپنی کی یہ شرکت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی معاشی ترقی کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو ایک اہم ستون کے طور پر ترجیح دے رہا ہے۔انڈسٹری ماہرین کے مطابق جدید کنیکٹیویٹی سلوشنزکو تیزی سے اپنانے سے نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ ممکن ہے بلکہ خدمات کی فراہمی کو بہتر اور ملک کے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ایکوسسٹم میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیا جاسکتاہے۔
پاکستان میں طویل عرصے سے موجودگی کے ساتھ ایرکسن مقامی ٹیلی کام آپریٹرز، کاروباری اداروں اور سرکاری شعبے کے ساتھ مل کر محفوظ، قابل توسیع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ نیٹ ورکس کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے، جس کے ذریعے کنیکٹیویٹی کو جدّت، معاشی استحکام اور جامع ترقی کے لیے ایک مؤثر ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔
