کراچی: اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI)کی ڈیجیٹل رپورٹ 2025میں کہاگیا ہے کہ اگر اسٹرکچرل رکاوٹوں کو دور اور اصلاحات میں تیزی لائی جائے تو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت 2030تک جی ڈی پی میں 5سے 7فیصد تک حصہ ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل شعبہ پیداواری صلاحیت، برآمدات اور مالیاتی شمولیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہاہے۔
او آئی سی سی آئی نے اپنی فلیگ شپ رپورٹ“Recommendations for Pakistan’s Digital Future”جاری کردی ہے جس میں ملک کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم، پالیسی خلا اور ترقی کے مواقعوں کا جامع جائزہ پیش کیاگیاہے۔
او آئی سی سی آئی کی ڈیجیٹل رپورٹ پاکستان میں ڈیجیٹل ایڈاپشن(digital adoption) کی مضبوط رفتار کو اجاگر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات(ITeS)کی برآمدات 3.8ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ فری لانس معیشت نے 779ملین ڈالرکی آمدن حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں 150ملین سے زائد براڈ بینڈ سبسکرپشنز اور 200ملین سے زائد ٹیلی کام کنکشنز ہیں جبکہ موبائل ایکو سسٹم قومی معیشت میں تقریباً17بلین ڈالر کا حصہ ڈال رہاہے۔
اس اہم پیش رفت کے باوجود رپورٹ میں اس بات کو بھی اجاگرکیا گیا ہے کہ بنیادی انفرااسٹرکچر میں نمایاں کمزوریاں ترقی کی رفتار کومتاثر کرسکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں صرف18فیصد موبائل ٹاورز فائبرسے منسلک ہیں جوعالمی معیارکے 40فیصد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہ کمی نیٹ ورک کی صلاحیت اور نیکسٹ جنریشن کی ٹیکنالوجیزکیلئے تیاری کو محدودکررہی ہے۔
اس موقع پر او آئی سی سی آئی کے صدر یوسف حسین نے کہاکہ او آئی سی سی آئی کی ڈیجیٹل رپورٹ پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی شمولیت میں حوصلہ افزاء پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ر است پلیٹ فارم نے 18ٹریلین روپے کی پیر ٹو پیر ٹرانزیکشنز کو پروسیس کیا جو ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کو تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کاواضح ثبوت ہے تاہم انفرااسٹرکچر رکاوٹیں اور ریگولیٹری تاخیراب بھی اس شعبے کی مکمل صلاحیت کو محدود کررہی ہیں۔
اس موقع پر او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل ایم عبد العلیم نے کہاکہ اگرچہ پالیسی سطح پر پیش رفت ہوئی ہے لیکن عمل درآمدکی رفتارسست ہے۔انہوں نے کہاکہ او آئی سی سی آئی کی ڈیجیٹل رپورٹ 2022میں دی گئی سفارشات میں سے صرف ایک چوتھائی پرعمل درآمد ہوسکا ہے۔ پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے پالیسیوں پر تیز تر عمل درآمد، فائبرنیٹ ورک کی رسائی میں بہتری اور سرمایہ کاری کیلئے سازگارریگولیٹری ماحول ضروری ہے۔
او آئی سی سی آئی کی ڈیجیٹل رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ براڈ بینڈسروسز اورڈیجیٹل ڈیوائسز پرٹیکس میں کمی کی جائے، فائبر نیٹ ورک کی توسیع کو تیز کیاجائے،ڈیٹا پروٹیکشن اور سائبر سیکیوریٹی کے حوالے سے واضح ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرایا جائے اور پاکستان کو ایک مسابقتی علاقائی ڈیجیٹل معیشت کے طورپر موئثر انداز میں آگے بڑھانے کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو مضبوط بنایاجائے۔
